قدرتی درِ نجف · اسلامی روایت کا پتھر
درِ نجف پتھر: صاف شفاف قدرتی کوارٹز
درِ نجف ایک صاف، بے رنگ قدرتی کوارٹز ہے جسے انگریزی میں راک کرسٹل (Rock Crystal) کہا جاتا ہے۔ مقدس شہر نجف سے نسبت کی وجہ سے بہت سے مسلمانوں کے لیے اس کی گہری روحانی اہمیت ہے۔ جیم اسٹور پر ہر درِ نجف ایک الگ قدرتی پتھر ہے، جس کی اپنی تصویر ہے اور قیمت الگ لگائی گئی ہے، تاکہ آپ شفافیت، شکل اور سائز دیکھ کر اپنا پتھر خود چن سکیں۔
دستیاب پتھر
درِ نجف اتنا اہم کیوں ہے
درِ نجف کا مطلب ہے "نجف کا موتی"۔ زیارت سے لوٹنے والے زائرین مدتوں سے یہ صاف پتھر ساتھ لاتے رہے ہیں، اور اسے عام طور پر چاندی کی انگوٹھی میں پہنا جاتا ہے، کبھی عقیق کے ساتھ اور کبھی اس کی جگہ۔ بہت سے پہننے والوں کے لیے اس کی اصل قدر روحانی اور جذباتی ہے، اور اسے برکت، حفاظت اور دل کے سکون کا پتھر سمجھا جاتا ہے۔ ہم اس اہمیت کا احترام کرتے ہیں اور اسے عقیدے اور روایت کے طور پر بیان کرتے ہیں، کسی یقینی اثر کے طور پر نہیں۔ دینی سوال ہو تو کسی ایسے عالم سے رجوع کریں جن پر آپ کو بھروسا ہو۔ مزید پڑھیں: درِ نجف: نجف کا صاف پتھر۔
درِ نجف کیسے چنیں
سب سے پہلے شفافیت
بہترین درِ نجف پانی کی طرح صاف ہوتا ہے، جس میں نہ دھندلاہٹ ہو، نہ دراڑ اور نہ کوئی نظر آنے والا داغ۔ ہلکے دودھیا یا اندر سے کچھ داغ دار پتھر سستے ہوتے ہیں اور بہت سے لوگوں کے لیے پھر بھی اتنے ہی معنی رکھتے ہیں۔
تراش اور پالش
پہلو دار (فیسٹڈ) پتھر چمکتا ہے، جبکہ گول ہموار نگینہ (کیبوشن) نرم، شیشے جیسی دمک دیتا ہے۔ خراشوں اور ٹوٹ پھوٹ کے بغیر صاف پالش قدر بڑھاتی ہے۔
سائز
بڑا اور صاف پتھر زیادہ قیمت رکھتا ہے۔ چونکہ ہر لسٹنگ ایک ہی پتھر کی ہے، اس لیے فی کیرٹ ریٹ صرف قیمت کو وزن سے تقسیم کرنے سے نکل آتا ہے۔
درِ نجف اصل میں کیا ہے؟
جیمولوجی کی زبان میں درِ نجف راک کرسٹل ہے، یعنی خالص سلیکون ڈائی آکسائیڈ جس میں کوئی رنگ دینے والا عنصر نہیں۔ موہس پیمانے پر اس کی سختی 7 ہے، اس لیے یہ روزمرہ کی خراشوں کا اچھی طرح مقابلہ کرتا ہے اور روز پہنی جانے والی انگوٹھی کے لیے موزوں ہے۔ اسے موئے نجف سے نہ ملائیں، جو اسی کوارٹز کی وہ قسم ہے جس کے اندر بال جیسی سوئیاں ہوتی ہیں۔ دونوں کا فرق اس مضمون میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔
درِ نجف کی فی رتی قیمت
درِ نجف کی قیمت سب سے زیادہ شفافیت پر منحصر ہے، پھر تراش، پالش اور سائز آتے ہیں۔ دو دکانوں کے ریٹ ملاتے وقت ایک جیسی شفافیت اور ایک جیسے وزن کے پتھروں کا موازنہ کریں، ورنہ سستا ریٹ اکثر دھندلے یا داغ دار پتھر کا ہوتا ہے۔
| Weight | Weights | Stones | Per carat | Per ratti |
|---|---|---|---|---|
| All Dur-e-Najaf in stock | 5.4 – 97.5 ct | 17 | Rs 80 – Rs 490 | Rs 70 – Rs 450 |
یہ جدول جیم اسٹور کی اپنی لسٹنگز سے بنتی ہے اور ہر مہینے تازہ ہوتی ہے۔
پاکستان میں قیمتی پتھروں کے لیے عام طور پر جو رتی استعمال ہوتی ہے وہ 0.91 کیرٹ (تقریباً 0.182 گرام) کی ہوتی ہے۔ سنار کی رتی اس سے چھوٹی ہے، تقریباً 0.1215 گرام یعنی لگ بھگ 0.61 کیرٹ۔ اس لیے جب کوئی دکاندار فی رتی ریٹ بتائے تو پہلے یہ پوچھ لیں کہ وہ کون سی رتی کی بات کر رہا ہے۔ فی رتی ریٹ نکالنے کے لیے پتھر کی قیمت کو اس کے وزن (رتی میں) سے تقسیم کریں۔ کیرٹ کو رتی میں بدلنے کے لیے ہمارا کیرٹ سے رتی کنورٹر استعمال کریں، اور باقی پتھروں کے ریٹ پاکستان میں قیمتی پتھروں کی قیمتیں والے صفحے پر دیکھیں۔
اصل درِ نجف اور شیشے میں فرق
بے رنگ ہونے کی وجہ سے درِ نجف کی نقل شیشے یا ایکریلک سے بہت آسانی سے بنتی ہے۔ چند آسان جانچیں:
- کوارٹز چھونے میں ٹھنڈا لگتا ہے اور دیر تک ٹھنڈا رہتا ہے، جبکہ شیشہ اور پلاسٹک جلد گرم ہو جاتے ہیں۔
- قدرتی پتھر میں عدسے (لوپ) سے دیکھنے پر اکثر باریک لکیریں، سوئیاں یا ہلکے پردے نظر آتے ہیں، جبکہ شیشے میں گول بلبلے یا بل دکھائی دے سکتے ہیں۔
- پلاسٹک غیر معمولی طور پر ہلکا ہوتا ہے اور آسانی سے خراش پکڑ لیتا ہے۔
مزید طریقوں کے لیے درِ نجف: راک کرسٹل، شیشہ یا زرقون؟ پڑھیں۔
پہننا اور دیکھ بھال
روایتی طور پر درِ نجف چاندی میں جڑا جاتا ہے۔ اس کی شفافیت برقرار رکھنے کے لیے ہلکے صابن والے پانی سے صاف کریں اور اسے زیادہ سخت پتھروں سے الگ رکھیں۔
جیم اسٹور سے درِ نجف کیسے خریدیں
ہمارے ہاں ہر پتھر الگ سے درج ہے، اس لیے جو پتھر تصویر میں ہے وہی آپ کو ملتا ہے۔ آرڈر 1 سے 2 کاروباری دنوں میں روانہ ہوتا ہے اور بیمہ شدہ، ٹریک ہونے والے کوریئر سے تقریباً 7 کاروباری دنوں میں پاکستان کے کسی بھی شہر میں پہنچ جاتا ہے۔ کیش آن ڈیلیوری میں آپ رائیڈر کو ادائیگی سے پہلے پارسل کھول کر پتھر دیکھ سکتے ہیں، اور ڈیلیوری کے بعد 7 دن کے اندر استعمال نہ کیا گیا پتھر واپس کیا جا سکتا ہے۔ سرٹیفکیٹ درخواست پر دستیاب ہے اور چاہیں تو آزاد لیب سے ٹیسٹ بھی کروایا جا سکتا ہے۔ ہر پتھر آن لائن آنے سے پہلے ہم خود جانچتے ہیں، اور چاندی کی انگوٹھی کی بات واٹس ایپ پر کی جا سکتی ہے۔